جمعہ 30 جنوری 2026 - 01:33
رہبرِ معظم کی قیادت اور جمہوری اسلامی ایران کی انسان دوست خدمات!

حوزہ/جمہوری اسلامی ایران نے رہبرِ انقلاب کی ہدایتی قیادت میں انسانیت، بالخصوص مسلمانوں اور شیعہ اقوام کے حقوق، عزت اور آزادی کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں، جو آج عالمی سطح پر ایک واضح حقیقت بن چکی ہیں۔

تحریر: مولانا سید منظور عالم جعفری سرسوی

حوزہ نیوز ایجنسی| اسلامی انقلابِ ایران محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر فکری، اخلاقی اور انسانی تحریک تھی جس نے ظلم، استبداد اور عالمی استعمار کے مقابل ایک نئے اسلامی و انسانی بیانیے کو جنم دیا۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد اور بالخصوص امام خمینیؒ کے وصال کے بعد، مقامِ معظمِ رہبری حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ‌ای (مدّ ظلّه العالی) کی قیادت میں یہ انقلاب نہ صرف محفوظ رہا بلکہ داخلی و خارجی چیلنجز کے باوجود ایک مضبوط، باوقار اور اثرگذار نظام کی صورت میں ابھرا۔

جمہوری اسلامی ایران نے رہبرِ انقلاب کی ہدایتی قیادت میں انسانیت، بالخصوص مسلمانوں اور شیعہ اقوام کے حقوق، عزت اور آزادی کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں، جو آج عالمی سطح پر ایک واضح حقیقت بن چکی ہیں۔

رہبرِ معظم کی قیادت کا فکری و انقلابی مقام

امام خمینیؒ کے بعد مقامِ معظمِ رہبری نے اسلامی انقلاب کے اساسی اصولوں—استقلال، آزادی، عدلِ اجتماعی اور دینی حاکمیت—کو نہایت حکمت اور بصیرت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ رہبرِ انقلاب کی قیادت کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ فقہِ اہلِ بیتؑ، قرآنی معارف اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کو یکجا کر کے ایک متوازن اور قابلِ عمل اسلامی نظام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کی قیادت محض سیاسی نہیں بلکہ تہذیبی اور تمدنی نوعیت رکھتی ہے۔

رہبرِ انقلاب کی فکر میں انسان اور انسانی کرامت

مقامِ معظمِ رہبری کی فکر کا مرکز “انسانِ باکرامت” ہے۔ ان کے نزدیک اسلام کا مقصد صرف اقتدار نہیں بلکہ انسان کو ظلم، فکری غلامی اور استحصال سے نجات دلانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی ہدایات میں ہمیشہ اخلاق، عدل، عوامی شعور اور ذمہ داری پر زور دیا گیا ہے۔ وہ امتِ مسلمہ کو وحدت، بصیرت اور استقامت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور فرقہ واریت، ناامیدی اور انحرافی رجحانات سے خبردار کرتے رہتے ہیں۔

جمہوری اسلامی ایران کی عالمی انسانی خدمات

بین الاقوامی دباؤ، اقتصادی پابندیوں اور مسلسل دشمنی کے باوجود جمہوری اسلامی ایران نے مظلوم اقوام کی حمایت کو اپنا اصولی موقف بنایا ہے۔ فلسطین، لبنان، عراق، شام اور یمن میں مظلوم عوام کی اخلاقی، سیاسی اور انسانی حمایت، نیز قدرتی آفات کے موقع پر امدادی سرگرمیاں، ایران کی انسان دوست پالیسیوں کی واضح مثالیں ہیں۔ یہ خدمات کسی نسلی یا مذہبی تعصب کے بغیر انجام دی گئیں، جو ایران کے اسلامی و انسانی تشخص کو نمایاں کرتی ہیں۔

مسلمانوں اور بالخصوص شیعہ دنیا کے لیے ایران کی خدمات

جمہوری اسلامی ایران نے دنیا بھر میں مسلمانوں، خصوصاً شیعہ اقلیتوں کو فکری اعتماد، علمی سہارا اور دینی شناخت عطا کی۔ حوزاتِ علمیہ کی تقویت، اہلِ بیتؑ کے معارف کی ترویج، علمی و تحقیقی مراکز کا قیام، اور دینی تعلیم کے عالمی ادارے—خصوصاً جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ—اسی وژن کا عملی مظہر ہیں۔ ان اقدامات نے شیعہ دنیا کو علمی و فکری سطح پر ایک نئی خود اعتمادی بخشی ہے۔

مسلسل دشمنی کے باوجود نظام کی استقامت کا راز

اسلامی جمہوریہ ایران کی استقامت کا راز عوام اور قیادت کے مضبوط رشتے میں پوشیدہ ہے۔ رہبرِ انقلاب کی ہدایات، عوامی بصیرت، اور مزاحمتی فکر نے اس نظام کو اندرونی انتشار اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھا ہے۔ دشمنوں کے دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود ایران کا اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنا اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ یہ نظام محض طاقت پر نہیں بلکہ ایمان، شعور اور عوامی حمایت پر قائم ہے۔

اختتامی کلمات

مقامِ معظمِ رہبری کی ہدایتی و فکری قیادت اور جمہوری اسلامی ایران کی اصولی پالیسیاں نہ صرف ایران بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور مظلوم انسانیت کے لیے امید اور استقامت کا سرچشمہ ہیں۔ یہ راستہ وقتی سیاست نہیں، بلکہ ایک گہرا اسلامی و انسانی منصوبہ ہے جو بالآخر عدلِ عالمی اور انسانی کرامت کے قیام کی طرف لے جاتا ہے—اور یہی اسلامی انقلاب کا اصل پیغام ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha